Ticker

6/recent/ticker-posts

Urdu Story Last part

 ایک رات کی خوشحال دلہن



جمیلا کی دوست اسے یہ مشورہ دیتی ایک دفعہ آپ ڈیل کرلووہ آخر چاہتا کیا ہے۔ پر اس لڑکے کے دل میں لالچ تھا اسے اسے ہر آۓ دن پیسے ملتے اور وہ کبھی اس کا نا جائز فائدہ اٹھاتا اور اسے یہ کرنا پڑتا تھا صرف پیسوں کی خاطر جمیلا کو صرف پیسے کا لالچ ہوتا تھا کسی بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا۔ جمیلا کو صرف اپنی آذادی چاہیے تھی اور اس نے اس بچے کو مس کروادیا۔  اور وہ بچہ صائم کا بھی نہیں تھا۔ جمیلا کی دوست اسے مشورہ دیتی جائیداد کچھ حصہ اپنے نام کروابے اور بچہ ہونے کا اگر  بچہ ہوجاۓ گا تو وہ مجبور ہوگا جائیداد نام کرنے کے لیے گفٹ میں  اسی طرح کافی عرصہ تک یہ چلتا رہا وہ ذاہد سے ملتی رہی وقت گزر تا گیا۔ صائم نے اسے جمیلا کو ذاہد کے ساتھ کسی پارک میں دیکھ لیا ، پر جمیلا کو نہیں بتایا  کیونکہ کہ ذاہد کو صائم نے خود جمیلا کے پیچھے لگایا تھا۔ صائم شرافت کا نکاب اپنے منہ پر ڈھنپ ہوا تھا۔ اس کے دل میں ایک خوف ناک جمیلا کے لے بدلہ تھا۔ اسلیے صائم کے بھائ کی موت جمیلا کی وجہ سے ہوئ تھی۔  پچھلے وقت میں لڑکوں سے ملنا اور انہیں کھانا پینا آتا تھا۔ صائم کا بھائ آصم جمیلا سے بہت پیار کرنے لگا تھا آصم نے اسے اپنی حقیقت نہیں بتائ تھی وہ ایک امیر ذادا ہے  وہ بس اس کے سامنے نورمل انسان کی طرح آتا تھا کپڑے کھانا پینا گفٹ وغیرہ دینا۔  جب جمیلا کا دل بھر گیا اس نے اسے ایک عام انسان سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ آصم  کو جمیلا کی سب حقیقت پتا تھی  پھر بھی وہ اس سے شادی کرنا چاھتا تھا۔ اور اس نے بتایا وہ ایک امیر آدمی ہے اور جمیلا یہ سن کر ہنس نے لگ گئ اور مذاق اڑانے لگ گئ  آصم ایک بھولا انسان تھا مطلب نورمل سے کم تھا دماغ سے بھولا ۔ آصم نے اپنے آپ کو مارڈالا ۔جب سائم کو اس بات کا پتہ چلا تو اس کے دل میں جمیلا سے بدلہ لینے کا تھام لیا۔ اور اس طرح سائم نے ایک چال چلی جس میں جمیلا پھنس گئ  جمیلا کے لیے اس کے دل میں بہت نفرت تھی  سائم جمیلا کو بڑی آسانی والی موت نہیں دینا چاہتا تھا۔ وہ اس کو تڑ پا تڑپا کے مارنا چاہتا تھا۔  سائم نے ذاہد کو اگوا کر وادیا اور اسے مارا اور دھمکی دی ذاہد پھٹوں اور لالچی انسان تھا  اور اس نے سائم کی بات مان لی۔ ذاہد نے اسے کیا جیسے جیسے سائم بولتا گیا۔ ذاہد نے اسے بلیکمل کرنا شروع کردیا  اس نے  بہت بڑی ڈیمانڈ کرنا شروع کردی جمیلا کے لیے جو مشکل ہوتا جارہا تھا اسے پورا کرنے میں۔  ذاہد نے اس سے 5 کڑور کی ڈیمانڈ کی  اسطرح جمیلا اپنے امیر گھر کو خراب نہیں کرنا چاہتی وہ اس کی منتے کرتی وہ اسے چھوڑ دے  تنگ کرنا وہ کہی دور چلا جاۓ وہ نہ مانا، اس طح جمیلا پریشان ہوتی گئ  راتوں نید نہیں کرتی اور نہ کھاتی پیتی تھی۔ جمیلا اس طرح اپنا ذہنی توازن کھو رہی تھی۔  وہ سب سے بتیمزی کرنے لگ گئ  اوا سب سے اس سے دور ہوگۓ ۔ سائم نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا جمیلا کو اور اس بات کا صدمہ ہوا اور وہ دما غی حالت سے بری طرح بیمار ہوگئ ۔ اسے پگل کھانے داخل کروادیا اس کے دماغ میں پیسہ پیسہ بس یہ ہی تھا۔

ایسے لوگوں کی اصل جگہ یہ ہی ہوتی ہے برے کا انجام برا ہی ہوتا خاص طور پر پیسے کے لالچی انسانوں کا۔  


Post a Comment

0 Comments